Friday, August 29, 2008

آسان تو نہیں ہے

آنا کہیں نہ جان آسان تو نہیں ہے
بس گھر میں جی لگانا آسان تو نہیں ہے

نہ دیکھنا کسی کو نہ پوچھنا کسی کا
یونہی گزرتے آنا آسان تو نہیں ہے

شہروں کے دھندلکوں میں گم ہو کے بھولنے سے
پھر گھر کو لوٹ آنا آسان تو نہیں ہے

ان رونقوں سے باہر ان محفلوں سے آگے
اک اور گھر بسانا آسان تو نہیں ہے

آسان تو نہیں ہے کہہ کر اسے بھلانا
اور دل سے بھول جانا آسان تو نہیں ہے

پھیلی ہوءی ہیں

خوہشیں پھیلی ہوءی ہیں
کوششیں پھیلی ہوءی ہیں

چاروں جانب راستوں میں
منزلیں پھیلی ہوءی ہیں

جھٹپٹوں کی بستیوں میں
عورتیں پھیلی ہوءی ہیں

بےشمار آسانیوں میں
محنتیں پھیلی ہوءی ہیں

دور تک اس آسماں میں
مشکلیں پھیلی ہوءی ہیں

خشک شہلاتی ہوا میں
دھڑکنیں پھیلی ہوءی ہیں

سمٹے سے آفاق میں کیا
گردشیں پھیلی ہوءی ہیں

سوچ ہی تو سکتے ہیں

پت جھڑوں بہاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں
دلکشا نظاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں

سوچ ہی تو سکتے ہیں دور آسمانوں کا
چاند اور ستاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں

نہ فضا ہماری ہے نہ فلک ہمارا ہے
ہم فقط سہاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں

نہ ہماری ہمت ہے نہ ہماری قدرت ہے
قسمتوں کے ماروں کا سوچ ہی تو سکتے

خواہشوں تمناؤں کوششوں ارادوں کا
دھوپوں اور کناروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں

سوچ ہی تو سکتے ہیں رہنماؤںسفروں کا
دور رہگزاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں

Wednesday, June 25, 2008

چاءلڈ لیبر اور پاکستان

مجھے ہمیشہ بہت عجیب لگا ہے کہ وہی سڑکیں وہی عمارتیں وہی چوک کسی اور سے کسی اور نکر پر کھڑے ہو کر دیکھنے سے عجیب نءے اور اجنبی سے نظر آنے لگتے ہیں۔ مانے ہوءے پلان جانچے ہوءے نقشے محض ذرا سی نءی سوچ سے فضول لگنے لگتے ہیں۔ ایک ذرا سی سوچ ایک معمولی سا زاویہ کتنا بڑا فرق پیدا کر دیتا ہے چیزوں کی مجموعی انجام پزیری میں۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان کے ارباب اقتدار کسی قانون کو پاس کرنے سے پہلے ، کسی منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے کسی کنسیپٹ یا اصول کو متعارف کروانے سے پہلے شاءد غور و خوض یا تدبر کرنا گوارا نہیں کرتے۔ محض اصول بنا دینا کافی نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اصول ایسا ہو جو لوگوں کے لءے قابل قبول ہو۔ اگر ہمیں محسوس ہو کہ لوگ اس اصول کو توڑ دیں گے اور اس پر قطعی عمل نہیں کریں گے تو ہمیں ایسا اصول متعارف کروانے سے گریز کرنا چاہءے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو لوگوں میں صحیح اصولوں اور قوانین پر عمل کرنے کی حس بھی ختم ہو جاءے گی اور اصول توڑنا ان کے لیءے کوءی بری بات نہیں رہے گی۔

چاءلڈ لیبر کے خلاف اٹھنا ، لوگوں کو آگہی دینا کہ بچوں سے کام کروان یا بچوں کو کام پر رکھنا اچھی چیز نہیں ہے ، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ عملی طور پر لوگوں کو روکنے کے لءے قانون بنانا ، اس نقطہ نظر سے ٹھیک نظر آتا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور انہیں بہتر سے بہتر پرورش ضرورر ملنی چاہءے ، اور یہ کہ بچے معصوم ہیں ، بےبس ہیں ، بڑوں کو بچے اپنے مقاصد کے لءے استعمال نہیں کرنے چاہییں۔ اگر بات صرف اتنی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ ہمیں معصوم بچوں کے ہاتھوں میں کاپیاں کتابیں دینا چاہءے نہ کہ اوزار اور آلات۔

لیکن بات شاءد اتنی سادہ نہیں ہے۔ ہم چاءلڈ لیبر کے قانون اس لءے بنا رہے ہیں کہ ہمیں ایسے قانون بنانے کے پیسے ملیں گے۔ لوگ سکول اس لءے کھول رہے ہیں کہ انہیں سکول کھولنے کے پیسے ملیں گے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ایجنسیوں کی معاونت پر چلنے والے ان سکولوں میں ہم کیا پڑھا رہے ہیں۔ کیا ہم کسی اور ملک لءے لیبر تو تیار نہیں کر رہے۔ کیا ہم دوسرے تمام سکولوں کی طرح ایسے ذہن تو پیدا نہیں کر رہے جو یا تو بیرون ملک جانا پسند کرتے ہیں یا اپنے ہی ملک کو بیرون ملک میں بدلنے کی خواہش میں کڑھتے رہتے ہیں۔ ان کے ملک میں رہنے کا بھی نقصان ہے اور باہر جانے کا بھی۔ ملک میں رہتے ہیں تو بے چین رہتے ہیں اور باہر جاتے ہیں تو ملک کو ایک اچھے اور پڑھے لکھے دماغ سے محروم کر کے دوسرے ملک کو فاءدہ پہنچاتے ہیں۔ ظاہر ہے کیمبرج ، ہارورڈ اور آکسفورڈ سے ایفیلی ایٹڈ سکولوں سے پیدا ہونے والا دماغ پاکستان میں رہنے پر تیار نہیں ہو گا۔

ہم نے سکولوں میں مار نہیں پیار کے اشتہار لگا دیے ہیں۔ بظاہر یہ ایک اچھی چیز ہے۔ لیکن کیا ہم اس دور کے لءے تیار ہیں جب ان سکولوں سے پڑھنے والے معاشرے کا حصہ بننے کے لءے عملی زندگی میں داخل ہوں گے۔ کیا ہمارے معاشرے کا تانا بانا ایسے دماغوں کے لءے تیار ہے جنہوں نے کبھی بے عزتی برداشت نہ کی ہو ، جنہوں نے کبھی مار نہ کھاءی ہو۔

آج ہم چاءلڈ لیبر کے قوانین متعارف کروا رہے ہیں۔ کیا ہم اس بات پر غور بھی کرنے کے لءے تیار ہیں کہ جن بچوں کو ہم پہلے پڑھا چکے ہیں انہیں اپنی پڑھاءی سے کتنے فواءد حاصل ہوءے ہیں۔ کیا ہم نے انہیں ایسا معاشرہ دینے کی کوشش کی جہاں وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں ، جہاں جاہل مالک انہیں استعمال نہ کر سکے۔ کیا ہم نے پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد کے موافق مواقع پیدا کءے۔ چاءلڈ لیبر سے منع کیسے کیا جا سکتے ہے جہاں ایک قلفیاں بیچنے والے کی دیہاڑی ایک ایم اے پاس ٹیچر سے زیادہ ہو۔ جہاں مزدور کی دیہاڑی ایک آفس کلرک سے زیادہ ہو۔ جو لوگ سولہ سولہ سال پڑھ کر اس معاشرے میں کمانے کے لءے نکلے ہم نے ان کو کتنی عزت دے دی جو ان بچوں کو ورکشاپوں اور فیکٹریوں سے اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہو سکتا ہے اپنے والدین کا اکلوتا سہارا ہوں اور جو ہو سکتا ہے اپنے خاندان کے واحد کفیل ہوں ، اور جو ہو سکتا ہے اپنے سے پہلے بچوں کی طرح ورکشاپ پر کام کرتے کرتے ایک دن اپنی ورکشاپ یا کاروں کے شوروم کے مالک بن جاءیں اور کءی ایک ایم اے پاس لوگوں کو اپنے ہاں ملازم رکھ لیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ ایک آدمی اعلیٰ تعلیم کے باوجود اپنی گزر بسر جتنا بھی نہیں کما رہا اور دوسرا انپڑھ ہونے کے باوجود فیکٹریوں اور ورکشاپوں کا مالک ہے۔ میرے خیال میں اس وقت سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ پڑھا لکھا طبقہ ہے۔ جو آدمی اپنا کام کر رہا ہے چاہے وہ کتنا بھی معمولی ہے مہنگاءی کے ساتھ مہنگاءی کر لیتا ہے ، بلکہ یوں کہنا چاہءے کہ اگلے دنوں میں ہونے والی مہنگاءی بھی کر لیتا ہے۔ آج پٹرول بڑھتا ہے اور اگلے دن بسوں کے کراءے دو دو روپے بڑھ جاتے ہیں ، سیگریٹ ایک روپیہ بڑھ جاتی ہے اور روٹی پہلے سے اور چھوٹی ہو جاتی ہے۔ اور نہیں بڑھتی تو تنخواہ دار کی تنخواہ نہیں بڑھتی۔ کب ہڑتال کی دھمکی دیں گے ، کب باس غور کرے گا اور کب تنخواہ بڑھے گی۔ حکومت ایک سال بعد بڑھاءے اور مہنگاءی ہر روز ہو گی۔

میرے والدین مجھے اس لءے سولہ سال پڑھاتے رہے کہ میں ایک باعزت روزگار حاصل کروں گا۔ لیکن جب میں پڑھ کر معاشرے میں نوکری کے لیءے آیا تو پتہ چلا کہ نوکری نہیں ہے۔ ایسی نوکریاں ہیں جہاں مجھ سے کم پڑھے لکھے اچھا کام کر رہے ہیں ، جہاں باس انپڑھ ہے اور کولیگ جاہل۔ دوسرے طرف چاءلڈ لیبر کا شکار میرے ہم جماعت نہ صرف پچیس سال پہلے اتنا کمانے لگے جتنا میں اب کماتا ہوں بلکہ اس وقت اپنی اپنی ورکشاپوں اور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ مجھے جب بھی کسی الیکٹریشن ، پلمبر ، مستری وغیرہ کی ضرورت پڑی انہوں نے مجھے یہی کہا کہ مجھے ان کے کام کا بالکل علم نہیں ہے اور یہ کہ مجھے جیسا وہ کہتے ہیں ویسا ہی کرتے جانا چاہءے۔ اگر میں نے ایک دو بار انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو یہی کہا کہ پڑھ لکھ کر آدمی کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور یہ کہ پڑھا لکھا آدمی وہمی اور شکی ہوتا ہے۔ مجھے ان کے اپنے انپڑھ ہونے پر اعتماد سے ہمیشہ یہی لگا کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں۔

مجھے اس سارے معاملے میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے لوگوں کو پڑھنے پر تو لگا دیا لیکن ایسا معاشرے نہ دے سکے جو ان لوگوں کو مواقع مہیا کرتا۔ یا تو پڑھے لکھے لوگ باہر چلے گءے ، یا پاکستان کو برا بھلا کہتے رہے ، یا جاہل لوگوں کے ماتحت کام کرتے رہے یا کرپٹ ہو گءے۔ پڑھے لکھے لوگ اس ملک اور معاشرے کے کسی طرح کام نہ آ سکے۔

آج ہم ان چاءلڈ لیبر میں پڑے بچوں کو کتابیں دینا چاہتے ہیں تو صرف ایجنسیوں سے پیسے لینے کے لءے نہ ہو ، ہم یہ بھی سوچیں کہ آگے چل کر جب یہ لوگ معاشرے کا حصہ بنیں گے تو ہمارے پاس انہیں دینے کے لءے کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ان کا حال بھی چھین رہے ہوں اور مستقبل بھی۔ بطور ایک استاد میں ایک عرصے سے یہ کہنا چھوڑ چکا ہوں کہ بیٹے اگر پڑھو گے تو باعزت نوکری مل جاءے گی ، اپنا کام اچھا کرو گے ، معاشرے میں عزت ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور یہ کہ بچہ بھی جانتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔

پاکستانی سیاستدانوں کی عوام دوستی

میں جب بھی پاکستان کے مساءل پر سوچتا ہوں اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لءے اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا مسءلہ کیا ہے تو مجھے ایک ہی جواب آتا ہے ۔۔۔۔۔ تفاوت۔ آزادی کے وقت سے چلا آ رہا یہ مسءلہ سنگین سے سنگین تر شکل آختیار کرتا جا رہا ہے۔ پانچ مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے صوبے کءی ایک اعتبار سے ایک دوسرے سے دور تھے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انہیں یعنی ان کے رہنے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاءے۔ لیکن ایسا نہ کیا ، نہ ہو سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زبانوں اور ثقافتوں کی تفاوت بے شمار چھوٹی بڑی تفاوتوں میں آگے بڑھتی رہی اور آج ہم ایک ایسے مقام پر آ گءے ہیں جہاں کوءی کسی کو نہیں جانتا۔ اندرونی طور پر جاننا تو درکنار ہم بیرونی طور پر بھی ایک دوسرے کو پہچاننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ باپ کو بچے ، بچوں کو باپ ، عورت کو مرد ، مرد کو عورت ، مالک کو ملازم ، ملازم کو مالک ، استاد کو شاگرد ، شاگرد کو استاد ، غرض جس تعلق اور رشتے کو بھی دیکھیں ہمیں یہی محسوس ہو گا کہ کوءی کسی کو نہیں پہچانتا۔ اختلافات ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ تفاوتیں ہیں کہ جنم لیتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ مذہبی مبلغوں نے ایسی تبلیغ کی کہ لوگ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کے لءے تیار نظر نہیں آتے۔ ہر آدمی دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہر کوءی دوسرے کو غلط سمجھتا ہے ، اور ہر آدمی کا خیال کہ دوسرا اس کو لوٹنے ، بیوقوف بنانے یا گمراہ کرنے کی تاک میں ہے۔ ایک علاقے کا آدمی دوسرے علاقے میں جانے سے ڈرتا ہے ، ایک شہر کا آدمی دوسرے شہر میں جانے سے گھبراتا ہے ، اور ایک صوبے کا آدمی دوسرے صوبے میں جانے سے خوف کھاتا ہے۔ دوست دوستوں کی تاک میں ہیں اور ہمساءے ہمسایوں سے چوکنے ہیں۔ سکیورٹی گارڈ مالکوں کو گولی سے اڑا رہے ہیں اور باپ بچوں کو ذبح کرنے کے درپءے پیں۔ طلاقوں ، عاق ناموں ، لا تعلقیوں وغیرہ کے اعلانات کا کالم پہلے سے دوگنا ہوتا جا رہا ہے۔ ماں باپ نالاں ہیں کہ اولاد نافرمان ہے ، اولاد روتی ہے کہ مان باپ ان سے لاتعلق اور اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ بیوی کو شکاءت ہے کہ شوہر بے راہرو ہیں ، شوہروں کو اذیت ہے کہ بیویاں بد کردار ہیں۔ بہنیں کہتی ہیں کہ بھاءی بے غیرت ہیں ، بھاءی کہتے ہیں کہ بہنوں کو شرم و حیا نہیں۔ استاد کہتے ہیں کہ شاگرد بد تمیز ہیں ، شاگرد کہتے ہیں کہ استاد نالاءق ، ظالم اور خود غرض ہے۔ امام کہتے ہیں کہ نمازی بے عمل ہیں ، نمازی کہتے ہیں کہ امام صاحب جھوٹے اور دنیا دار انسان ہیں۔ ملازم مالک کو حرام خور سمجھتا ہے اور مالک ملازم کو بے ایمان اور کام چور۔ کوءی رشتہ ایسا نہیں رہا جس پر اعتبار کیا جا سکے ، یا جس پر اعتبار باقی رہ گیا ہو۔ آءے دن کوءی نہ کوءی کسی نہ کسی کو شک و شبہے میں یا رنگے ہاتھوں پکڑ کا مارتا اور قتل کرتا مل رہا ہے۔ کوءی شعبے ایسا نہیں رہا جس میں کسی کو کسی کا اعتبار ہو۔ ہر کوءی اسی کشمکش میں ہے کہ اگر وہ دھوکا نہیں دے گا ، الو نہیں بناءے گا ، وعدہ خلافی نہیں کرے گا ، تو دوسرا ایسا ضرور کرے گا۔ ہر کوءی یہی سمجھتا ہے کہ دھوکا کھانے سے پہلے دھوکا دے دینا بہتر ہے۔ کیا ساءل اور کیا افسر ، کیا گاہک اور کیا دکاندار ، سب ایک ہی اذیت کا شکار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے اعتباری۔ ہر کوءی دوسرے کو پہلی ملاقات میں ہی ختم کر دینے کا تہیہ کءے ہوءے نظر آتا ہے۔

یہ سب پہلے بھی تھا ، لیکن اتنا نہیں تھا۔ سو میں سے ایک آدھ انسان ایسا نظر آتا تھا ، اور وہ بھی دوسروں کو دیکھ کر یا تو ٹھیک ہو جاتا تھا ، یا اپنی بے اعتباری اور بد حواسی کو اپنے تک محدود رکھتا تھا۔ اب تو حد ہی ہو گءی ہے۔ اور حد کا سوچ کر لگتا ہے شاءد حد نہ ہوءی ہو اور اس سے بھی بدتر صورت حال دیکھنے کے لءے زندہ رہنا پڑے۔ تمام مساءل کا حل حکمرانوں سے ہی متوقع تھا ، اور اب تو حکمران بھی عوام کو اپنا دشمن اور عوام حکمرانوں کو اپنے بدخواہ سمجھنے لگے ہیں۔ اب یہ سب کچھ کس طرح ٹھیک ہو گا کوءی کچھ نہیں کہ سکتا۔ حکمران عوام سے لاتعلق اور بے خبر تو پہلے بھی رہتے ہوں گے ، لیکن شاءد اتنے اور اس طرح نہیں رہتے تھے۔ اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حکمران عوام کا سب سے بڑا دشمن ہو۔ عوام کو سہولتیں دینا تو درکنار وہ تو ان کا حوصلہ بھی چھیننے کے درپءے ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے حکمران محض عوام کو نچوڑنے اور ان کی کھال نوچنے کا پروگرام بناتے ہیں اور بس۔ کس جگہ ٹیکس لگایا جاءے ، کس جگہ پھسایا جاءے ، کیسے مارا جاءے ، کیسے بھگایا جاءے ، ایسا لگتا ہے حکمران کسی نہ کسی نءے منصوبے اور مشورے کا انتظار کرتے ہیں اور بس۔ بجلی ، پانی اور گیس کے تیز رفتار میٹر جو سو روپے کا بل دو سو روپے میں بھیجیں۔ ہر چوک اور سڑک پر تربیت یافتہ چالان کنندہ۔ لاکھوں کے عوض گورنمنٹ کی پوسٹوں پر تقرریاں ، اور پتہ نہیں کیا کچھ۔

اگر ہمارے حکمران عوام سے دور نہیں ، اگر انہیں عوام کے مساءل کا علم ہے تو پچھلے دنوں شاءع ہونے والے گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کے لءے متعارف ہونے والی ہاءسنگ سکیم سے یہی نظر آتا ہے کہ عوام کو نچوڑنے ، نوچنے کچلنے کا یہ منصوبہ بڑی خوشدلی سے قبول کیا گیا ہو گا۔

پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی کی طرف سے شاءع ہونے والے اس اشتہار کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ ہر درخواست دہندہ اپنی درخواست کے ساتھ 50 ہزار روپے جمع کرواءے گا ، اور یہ کہ الاٹمنٹ کے وقت کل رقم کا 15 فیصد جو کہ تقریباً 2 لاکھ روپے بنتے ہیں ، جمع کراءے گا ، اور یہ کہ 130450 روپے کی ماہانہ قسط کی صورت میں بقیہ رقم جو کہ 1565000 کے لگ بھگ ہے بارہ مہینوں میں ادا کرے گا۔ مجھے صرف یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وزیر اعظم کی ہاءوسنگ سکیم کا مشورہ دینے والے صاحب نے یہ کیسے گمان کر لیا کہ ان کے ملک کا گریڈ ایک سے گیارہ کا ملازم مندرجہ بالا فیسیں اور اقساط جمع کرانے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ شاءد حکمرانوں کو یقین ہے کہ ان کا ہر ملازم رشوت خور اور جھوٹا ہے ، وہ اتنا غریب ہے نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ شاءد حکمرانوں کو روپےکی قیمت کا اندازہ ہی نہ ہو اور انہیں علم ہی نہ ہو کہ ایک سو بلکہ ایک ہزار روپے کی قیمت ایک روپے جتنی ہو چکی ہے۔

کوءی جو مرضی کہہ لے مجھے صرف یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکمران عوام سے بے خبر ہیں اور انہیں عوام کے مساءل کا حل تو کیا ان کے مساءل کا بھی کوءی علم نہیں۔

Monday, June 9, 2008

آئن سٹائن دہریہ نہیں تھا

انسانی دماغ مختلف فوبیاز ، مینیاز ، کمپلکیسز ، ابسیشنز وغیرہ کا مرکب ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ان فوبیاز مینیاز وغیرہ کی تعداد سینکڑوں کے لحاظ سے ہے۔ خواب اور وہمے ان سے علحیدہ ہیں۔ چھٹی حس اور کامن سینس ایک اور پہلو ہے۔ ویژن اور ہیلوسینیشن ایک اور رنگ ہے۔ کئی ایک احساسات ، کئی ایک جذبات بے شمار قوتوں اور ان گنت خیالات پر مشتمل انسانی دماغ ایک ایسی نشوونما پر پیدا ہوا ہے جو دائیں بھی ہو سکتی ہے اور بائیں بھی، آگے بھی ہو سکتی ہے اور پیچھے بھی ، اوپر بھی اور نیچے بھی اورایک ہی جگہ ساکت و جامد رہ کر بھی ہوسکتی ہے۔ اگر اس دماغ کی لذتوں کو شمار کریں تو کوئی انتہا نہیں ملتی اور اگر اسکے رنج و الم کو گنیں تو کوئی سراغ ہاتھ نہیں آتا۔ عقل تو انسانی دماغ کا ایک مختصر سا حصہ ہے ، لیکن اس مختصر سے حصے کے استعمال سے پیدا ہونے والی دنیا دیکھیں کیسی کیسی ایجادات سے مزین ہو چکی ہے۔

جس طرح انسان کائنات کو مسخر کرتا آ رہا ہے اسی طرح عقل اپنے سےکئی کئی گنا بڑے دوسرے دماغی حصوں کو مسخر کرتی آرہی ہے۔ باہر اور اندر دونوں کی تسخیر بہر حال رنج اولم سے خوف کا نتیجہ ہی ہے۔ تکلیفوں سے گریز کرنے کی بجاءے انہیں بھگتنے اور ان سے گزرنے میں کاءنات کی کیسی تسخیر سامنے آتی شاءد ہم اس بات کا تصور کرنے کے لءے بھی تیار نہیں ہیں۔ عقل بہر حال وہ دماغی خصوصیت ہے جس نے توہم ، جو ایک اور بہت بڑی دماغی خصوصیت تھی ، کو کافی حد تک مسخر کر لیا ہے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ توہم سے حاصل ہونے والے نتائج و فوائد بھی اتنے ہی زیادہ تھے جتنے کہ عقل سے حاصل ہونے والے نتائج و فوائد ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ توہم سے حاصل ہونے والے نتائج و فوائد وقت اور فاصلے کی حدوں پر زیادہ غالب تھے۔ بات شاید اتنی ہے کہ عقل اور توہم کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے تھا۔ انسان کے اندر جتنی نشوونما عقل نے حاصل کی توہم بھی اتنی ہی نشوونما حاصل کرتا اور یہ کہ نہ تو توہم عقل کو ختم کرتا اور نہ عقل توہم کو مسخر کرتی۔ عقل اور توہم کے عدم تناسب سے ایک وقت تھا جب بت پرستی نے جنم لیا اور دوسرا وقت یہ ہے جب دہریت پیدا ہوئی۔ پہلے وقت میں توہم زیادہ تھا اور دوسرے میں عقل زیادہ۔

انسانی علم ایک تو انسان کے اپنے تجربات پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرا کسی دوسرے انسان کے تجربات پر۔ علم کی فطرت یہ ہے کہ یہ کسی نہ کسی تجربے پر منحصر ہوتا ہے اورعمل کی فطرت یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی علم پر مبنی ہوتا ہے۔ بعض لوگ اپنے تجربے سے حاصل ہونے والے علم کو تو مان سکتے ہیں لیکن کسی دوسرے کے تجربے سے حاصل ہونے والے علم کو نہیں مان سکتے۔ ان کی منزل دہریت ہے اور ایسی دہریت خدا سے ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔ آءن سٹاءن ایک ایسا دہریہ تھا جو یہ قدم اٹھا چکا تھا۔

دراصل انسان کے اندر کی دنیا بھی اتنی ہی وسیع ،رنگا رنگ اور پیچیدہ ہے جتنی کہ باہر کی ۔ صوفی اور سانس دان میں صرف اتنا فرق ہے کہ صوفی انسان کے اندر کی دنیا دریافت کرنے اور مسخر کرنے میں لگا رہتا ہے جبکہ سائنس دان انسان کے باہر کی دنیا کو دریافت کرنے اور مسخر کرنے میں لگا رہتا ہے۔ ہر بڑا صوفی کسی نہ کسی وقت بالائے مذہب ہو کر سوچنے پر مجبور ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر بڑا سائنسدان بالائے مذہب ہو کر ضرور سوچتا ہے۔ روایتی مذہب کو نہ صوفی قبول کرتا ہے اور نہ سائنسدان ۔ اصل میں غور سے دیکھا جائے تو صوفی اور سائنسدان مذہب کی جس شکل کو مانتے ہیں وہ اس مذہب کی اولین شکل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ روایتوں ، درائتوں ، تاویلوں ، تفسیروں وغیرہ کے مذہب کا حصہ بن جانے کو نہ صوفی مانتا ہے اور نہ سائنسدان۔

آئن سٹائن دہریہ نہیں تھا ۔ لیکن وہ نہ تو مذہب کی اس شکل کو مانتا تھا جو چار ہزار سال کی تشریحات پر مشتمل تھی ، اور نہ خدا کے اس تصور کا قائل تھا جو اوسط درجے کی عقل رکھنے والے لوگوں نے اپنی حدودِ علم ، حدودِ قیاس اورحدودِ قوت سے خائف ہو کر قائم کیا ہوتا ہے۔

پچھلے دنوں نیلامی کے لیے پیش ہونے والے آئن سٹائن کے ایک خط کے متن پر بحث کرتے ہوئے لوگوں نے آئن سٹائن کے مذہبی خیالات کو جس طرح لامذہبیت یا دہریت کے نام سے موسوم کیا ہے ، میرے خیال میں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ آئن سٹائن نے اگر خدا کو انسانی بے بسی اور کم علمی کی تخلیق کہا ہے اور بائبل کے بچگانہ محسوس ہونے کا اظہار کیا ہے تو اس کا مطلب خدا کے اس تصور سے تھا جو کم عقل اور بے بس لوگوں نے قائم کیا ہوا ہے ، اور اس کا مطلب بائبل کی ان تشریحات سے تھا جو لوگوں کو خوفزدہ کر کے کچھ اعمال کروانے اور کچھ سے پرہیز کروانے کے لءے کی ہوءی ہیں۔ میرے خیال میں آئن سٹائن کا یہ کہنا کہ کائنات ایک انوکھی الویت یا روحانیت سے بھری ہوئی ہے اس کے مذہبی ہونے کی دلیل ہے۔ آئن سٹائن جس نے کبھی یہ کہا تھا کہ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے اپنی آخری عمر میں ایک ایسے وجود کے احساس میں محصور تھا جسے وہ مذہب کا کائناتی احساس کہہ کر پکارتا تھا ۔ اس کا خیال تھا کہ خدا قوانین کا موجد ہے نہ کہ جزا اور سزا دینے والا حاکم۔ اپنی کائنات میں خدا نے کچھ اصول جاری کیے ہوئے ہیں اور وہ ان اصولوں میں تبدیلی نہیں کرتا ۔ آئن سٹائن کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ کائنات قدرت اور فطرت میں ایک ایسی عقل کارفرما ہے جو انتہائی اعلٰی سطحی یا ناقابل تحییط محسوس ہوتی ہے۔

اس بات کو نظر انداز کر کے کہ آئن سٹائن نے روایتی یا مروجہ یہودیت سے انکار کیا ہے اگر ہم کائنات کے بارے میں اس کے خیالات، احساسات یا تجربات کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی قوت کا قائل ضرور تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئن سٹائن نے خدا کو بقدر روح محسوس کرنے کی بجاءے ، بقدر عقل محسوس کیا ہے۔ اگر انسان روح، عقل اور جسم کا مرکب ہے تو آئن سٹائن نے خدا کو عقل کے راستے میں پایا ہے نہ کہ روح کے۔ یہ اور بات ہے کہ صوفی خدا کو روح کے راستے میں پانے کے قائل ہیں۔

حصہ چہارم

ایجادات

کب ہوئیں

کہاں ہوئیں

کیا اثرات چھوڑے

مونگ پھلی کی کاشت

9سو 50 سال قبل مسیح

جنوبی امریکہ

گھوڑوں کا جنگی استعمال

9 سو سال قبل مسیح

میسوپوٹامیا

نقلی دانت

7 سو 50 سال قبل مسیح

اٹروریا (آج کا اٹلی)

دھاتی کفل اور چابیاں

7 سو 50 سال قبل مسیح

روم

لوہے کی قینچیاں اور آریاں

7 سو 50 سال قبل مسیح

یورپ

جنگی بھڑیں

7 سو سال قبل مسیح

فنیشیاء ، مصر

موسیقی کی لکھائی

7 سو سال قبل مسیح

بھارت

آبیاشی کا نظام

7 سو سال قبل مسیح

میسو پوٹامیا ، مشرقی وسطی

ارشمید س کا پیچ

7 سو سال قبل مسیح

میسوپوٹامیا

سہ رخی تصاویر

6 سو 50 سال قبل مسیح

یونان

پن چکی

6 سو 50 سال قبل مسیح

فارس

ٹیکسائل

6 سو 40 سال قبل مسیح

لیڈیا (آج کا ترکی)

چوگان ( پولو)

6 سو سال قبل مسیح

فارس

لائیٹ ہاؤس

6 سو سال قبل مسیح

بحیرہ روم

لنگر کا استعمال

5 سو 92 سال قبل مسیح

یونان

پیچ

5 سو 50 سال قبل مسیح

یونان

پانی کی سرنگیں

5 سو 50 سال قبل مسیح

یونان

شاہراہیں

5 سو سال قبل مسیح

فارس

پاسپورٹ (پروانہ راہداری)

5 سو سال قبل مسیح

فارس

جمہوریت

4 سو 78 سال قبل مسیح

ایتھنز (یونان)

تیر اندازوں کا جنگی استعمال

4 سو 40 سال قبل مسیح

یونان

منجنیق

4 سو سال قبل مسیح

کارتھیج (یونان)

آئینہ

4 سو سال قبل مسیح

فنیشیاء

آئس کریم

4 سو سال قبل مسیح

فارس

عجائب گھر

3 سو 23 سال قبل مسیح

مصر

کرونالوجی

3 سو 12 سال قبل مسیح

فارس

بھاپ کا استعمال

300 سال قبل مسیح

مصر

لیور

250 سال قبل مسیح

یونان

پسٹن

2 سو 50 سال قبل مسیح

مصر

گھوڑوں کا سامان (کاٹھیں ، لگام، رکاب وغیرہ)

2 سو سال قبل مسیح

چین

کتاب

180 سال قبل مسیح

یونان

پیچ سے دبنے والی پریس

150 سال قبل مسیح

روم

مرکزی درجہ حرارت

150 سال قبل مسیح

روم

شیشے کی صعنت

1 سو سال قبل مسیح

شام

عوامی حمام

1 سو سال قبل مسیح

روم

قرطاس

1 سو سال قبل مسیح

پرگامم (آج کا ترکی)

قبضوں والے چکو

1سو سال قبل مسیح

چین

گھڑی کے اصول پر جاری مشنیری

82 سال قبل مسیح

یونان

کھڑکیوں کے پھٹ

6سو سال قبل مسیح

روم

بھاپ کا غسل

6 سو سال قبل مسیح

یورپ

کلینڈر

45 سال قبل مسیح

روم

کوئلے کی کانیں

40 سال قبل مسیح

چین

جراثیم کُش ادویات

40 سال قبل مسیح

چین

گنبد

30 سال قبل مسیح

روم

انگوٹھےکےنشان کا استعمال

چین

30 سال قبل میسح

سڑکوں کے نقشے

روم

30 سال قبل مسیح

آلات جراحی

بھارت

30 سال قبل مسیح

مچھلیوں کی افزائش

بحیرہ روم

15 سال قبل مسیح

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ پنجم

ایجادات

کب ہوئیں

کہاں ہوئیں

کیا اثرات چھوڑے

سموکنگ پائپ (دخان کش)

10 عیسوی

شمالی امریکہ

ڈیڑجنٹ

10 عیسوی

چین

رہائشی بدریں

20 عیسوی

روم

پائپوں کی طرح بنی ان گھریلو بدرووں کے آگے سیسے کے منہ اور پانی وا لے نلکے لگے ہوتے تھے۔

بھاری ہل

100 عیسوی

روم

کاغذ

105 عیسوی

چین

رہائشی کواٹر

120 عیسوی

روم

چراہی

140 عیسوی

بحیرہ روم

جدید اعداد اور صفر کا استعمال

150 عیسوی

بھارت

کہا جاتا ہے کہ آریا بھاٹا کے بنائے ہوئے اس اعددی نظام کو عربی اعداد کا نام محض غلط فہمی یا غلط بیانی کی بنیاد پر دیا گیا تھا

چھپائی

150 عیسوی

چین

آئیسٹر کی کاشت

150 عیسوی

چین

آبیکس

190 عیسوی

چین

آبیکس وہ ایجاد ہے جو آنے والی صدیوں میں کیلیٹر اور کمپیوٹر کی صورت اختیار کر گئی

چینی مٹی کے برتن

190 عیسوی

چین

چڑیا گھر

248 عیسوی

روم

نقشوں پر لمبائی اور چوڑائی کی علامتیں

265 عیسوی

چین

الجبراء

275 عیسوی

یونان

گلیوں میں تیل سے جلنے والے چراغون کا استعمال

300 عیسوی

شا م

گیس سے جلنے والے چراغ

300 عیسوی

شا م

گیس والے پائپ

347 عیسوی

چین

بانس سے بنے ہوئے یہ پائپ قدرتی گیس کو استعمال کرنے کے لیے کام میں لائے جاتے تھے۔

چائے

350 عیسوی

چین

شروع شروع میں چائے دوائی کے طور پر استعمال کی جاتی تھی

ڈاکٹری اجازت نامے

361 عیسیوی

بازنطین (آج کا استنبول یا ترکی)

ایسٹولیبل

400 عیسوی

مصر

ہائیڈرومیٹر

400 عیسوی

مصر

مکھن

400 عیسوی

یورپ

وسکی

450 عیسوی

یورپ

برانڈی

500 عیسوی

چین

سسپنشن بریج

500 عیسیوی

چین

یہ ایک ایسا سسپنشن بریج تھا جس میں لوہے کی زنجیریں استعمال کی گئی تھیں۔

ریشمی ملبوسات پر چھپائی

500 عیسوی

چین

قالین

550 عیسوی

فارس

ماچس

577 عیسوی

چین

سلفر کے استعمال سے چلنے والی یہ ماچسیں ان ماچسوں کو انگلینڈ کے جان واکر نے 1826 میں دوبارہ متعارف کروایا۔

ڈاک خانہ

600 عیسوی

فارس

بھونچال سے محفوظ عمارتیں

600 عیسوی

بازنطین

سیاسی آئین

604 عیسوی

جاپان

شطرنج

621 عیسوی

بھارت

کبوتر کے ذریعے خطو خطابت

630 عیسوی

عرب

کیمیائی جنگ

673 عیسوی

بازنطین

یونانیوں نے ایک ایسی آگ بنائی جو پانی پر جلتی تھی

بھبھوکے والی بٹی

700عیسوی

یورپ

طے ہونے والے پنکھے

700 عیسوی

جاپان

تصویری چھپائی

765 عیسوی

جاپان

شفاف چینی مٹی

800 عیسوی

چین

ٹھنڈا پانی

800عیسوی

یورپ

کیمونو

800 عیسوی

جاپان

کنگھی

800 عیسوی

یورپ

عمل کشید

800عیسوی

عرب

جابر بن حیان کی اس دریافت نے آنےوالے سالوں میں بیشمار علوم وفنون کے دروا کیے۔

شیشے کی جھال والے برتن

810 عیسوی

عرب

حساب اور الجبرء

825 عیسوی

فارس

الخوارزمی کی بیشمار اضافیات نے نہ صرف الجبرے کی بالکل نئی شکل متعارف کروائی بلکہ اسےاانےوالی صدیون میں کئی دوسرے علوم کی بنیاد بنا دیا۔

چکی

823 عیسوی

یور (ہالینڈ)

اگرچہ چکی غلہ پیسنے کےلیے پہلے ادوارء میں بھی زیر استعمال تھی لیکن یہ گھومنے والی چکی اپنے وقت کی انتہائی جدید شکل و صورت والی ایجاد تھی۔

بارود

850 عیسوی

چین

چھپی ہوئی کتابیں

866 عیسوی

چین

کینڈل کلاک

870 عیسوی

انگلینڈ

عدسے

900 عیسوی

یورپ

سورج کی روشنی سے آگ جلانے والے یہ عدسے آنے والی صدیوں میں بے پناہ اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

چمچ کانٹے

900 عیسوی

بازنطین

لکڑی کی مدانی

900عیسوی

یورپ

چرخیاں

900 عیسوی

تھائی لینڈ

پلاسٹر

900 عیسوی

عرب

نہ صرف برتن سازی میں استعمال ہوا بلکہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے میں بھی کارآمد ثابت ہوا۔

مطب میں داخلے کے امتحان

931 عیسوی

فارس

گالف

935 عیسوی

چین

فاؤنٹین پن

953 عیسوی

مصر

یہ وہی فاؤنٹین پن ہے جسے یو ایس اے کے لیوس واٹر مین نے 1884 مین دوبارہ متعارف کروایا تھا۔

پہیے والی گھڑی

960 عیسوی

فرانس

ہسپتال

970 عیسوی

عرب

نرسوں ، داکٹروں اور دوا سازوں کی سہولتوں سے آراستہ یہ ہسپتال آج کے ہسپتالوں کی بنیاد ثابت ہوا۔

پارے سے چلنے والی گھڑی

960 عیسوی

چین

ایمبولینس

1000 عیسوی

مشرق وسطی

فلسطین میں گھوڑوں سے چلنے والی یہ گاڑی جسے صلیبی جنگوں مین استعمال کیا گیا آنے والے سالوں میں فرانس کے "چان لیری" سے دوبارہ دریافت ہوئی ۔

سورج گھڑی

1000 عیسوی

سپین

سونے کی تار

1000 عیسوی

سیپریس

ٹوتھ پیسٹ

1000 عیسوی

چین

گرینٹ

1000 عیسوی

بازنطین

شروع شروع مین گرینٹ کو پٹرول اور گیسلین سے بھرا جاتا تھا

چیک

1000 عیسوی

عرب

صابن کی ٹکیاں

1000 عیسوی

عرب

انگشتانہ

1000 عیسوی

بازنطین

استری

1000 عیسوی

یورپ

پیزہ (pizza)

عیسوی1000

بازنطین

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ ششم

ایجادات

کب ہوئیں

کہاں ہوئیں

کیا اثرات چھوڑے

آئینہ

1020 عیسوی

عرب

چمکدار چاندی اور لوہےسے بنا یا ہوا یہ ابن الہشیم کا یہ آئینہ بعد میں کئی دوسری ایجادات کی بنیاد بنا۔

شکر

1025 عیسوی

عرب

اسلحہ

1050 عیسوی

چین

شروع شروع میں بموں کو منجنیقوں اور غلیلوں کی مدد سے پھینکا جاتا تھا ۔

میکان کی گھڑیال

1092 عیسوی

چین

کاغذ کی کرنسی

1100 عیسوی

چین

سیسے کی جھال چڑھے برتن

1100 عیسوی

یورپ

سات رنگوں والی چھپائی

1100 عیسوی

عرب

ٹینک

1125 عیسوی

چین

دھوئیں کے گرینٹ

1128 عیسوی

عرب

آنسو گیس والے گرینٹ

1161 عیسوی

چین

چھپائی والے لکڑی کے تحتے

1174 عیسوی

سویزرلینڈ

راکٹ

1180 عیسوی

چین

پیرا شوٹ

1180 عیسوی

چین

یہ وہی پیراشوٹ ہے جس کو فرانس کے آندرے گارنارن نے 1797 میں دوبارہ متعارف کروایا تھا۔

کاج

1235 عیسوی

جرمنی

پر والا قلم

1250 عیسوی

یورپ

چونگی والی سڑکیں

1260 عیسوی

انگلینڈ

عینک

1275 عیسوی

اٹلی

زمینی خندقیں

1277 عیسوی

چین

چرخا

1280 عیسوی

بھارت

بندوق یا توپ

1304 عیسوی

عرب ، یورپ

مصنوعی نسل کشی

1320 عیسوی

عرب

دھات کی ٹائپ رائٹر

1396 عیسوی

کوریا

پسٹل

1400 عیسوی

یورپ

تاش کے پتے

1400 عیسوی

مصر

حیاتیاتی جنگ ریزی

1400 عیسوی

وسطی ایشیاء

تاتاریوں نے دشمن کو مغلوب کرنے کے لیے طاعون کے مریضوں کو منجنیقوں میں بھر بھر کر شہر کی دیواروں کے اندر پھینکا ۔

شیشے کی بوتلیں

1400 عیسوی

یورپ

سکریو جیک

1400 عیسوی

یورپ

کندہ کاری

1440 عیسوی

جرمنی

چھپائی کی سیاہی

1450 عیسوی

یورپ

ٹوتھ برش

1498 عیسوی

چین

گھڑی

1500 عیسوی

جرمنی

جمع اور منفی کی علامتیں

1514 عیسوی

یورپ

آگ سے چلنے والا انجن

1518 عیسوی

جرمنی

مساوی کی علامت

1557 عیسوی

یورپ

کچی پنسل

1564 عیسوی

انگلینڈ

بنائی کرنے والے مشین

1589 عیسوی

انگلینڈ

مائیکرو سکوپ

1590 عیسوی

ڈنمارک

تھرما میٹر

1592 عیسوی

اٹلی

فلش سسٹم ٹائلٹ

1597 عیسوی

انگلینڈ

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ ہفتم

ایجادات

کب ہوئیں

کہاں ہوئیں

کیا اثرات چھوڑے

ریلوے

1604 عیسوی

انگلینڈ

ٹیلی سکوپ

1608 عیسوی

نیدرلینڈ

اخبار

1609 عیسوی

جرمنی

آب دوز

1620 عیسوی

انگلینڈ

ضرب کی علامت

1631 عیسوی

یورپ

کوئلےسے دھکنے والا تندو

1635 عیسوی

انگلینڈ

مائیکرو میٹر

1639 عیسوی

انگلینڈ

بیرو میٹر

1643 عیسوی

اٹلی

ہوائی پمپ

1650 عیسوی

جرمنی

پینڈلم کلاک

1657 عیسوی

نیدر لینڈ

سرنج

1659 عیسوی

انگلینڈ

چیک بک

1660 عیسوی

انگلینڈ

بس سروس

1662 عیسوی

فرانس

کلکولس

1665 عیسوی

انگلینڈ ، جرمنی

شمپئن

1670 عیسوی

فرانس

گھڑی کی چھوٹی سوئیاں

1670 عیسوی

انگلینڈ

پریشر کوکر

1678 عیسوی

فرانس

فاسفورس والی ماچسیں

1680 عیسوی

انگلینڈ

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ ہشتم

ایجادات

کب ہوئیں

کہاں ہوئیں

کیا اثرات چھوڑے

گرم ہوا والے غبارے

1709 عیسوی

پرتگال

رائفل

1710 عیسوی

شمالی امریکہ

بھاپ والا انجن

1712 عیسوی

انگلینڈ

ٹمپریچر سکیل

1714 عیسوی

نیدر لینڈ

کپڑا بننے والی مشین

1733 عیسوی

انگلینڈ

جیگسا پزل

1750 عیسوی

انگلینڈ

لاٹننگ کنڈیکٹر

1752 عیسوی

شمالی امریکہ

سینڈوچ

1769 عیسوی

انگلینڈ

ربڑ (کچی پنسل مٹانے والا)

1770 عیسوی

یو ایس اے

سٹین بوڈ

1783 عیسوی

فرانس

میٹرک سسٹم

1795 عیسوی

فرانس

ویکسینیشن

1796 عیسوی

سکاٹ لینڈ

لیتھوگرافی

1798 عیسوی

جرمنی

گیس کوماءع بنانا

1798 عیسوی

فرانس

تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ نہم

ایجادات

کب ہوئیں

کہاں ہوئیں

کیا اثرات چھوڑے

الیکٹریک بیٹری

1800 عیسوی

اٹلی

گیس کی روشنی کا گھریلو استعمال

1800 عیسوی

انگلینڈ

سٹیم لوکو موٹیو

1804 عیسوی

انگلینڈ

آرک لیمپ

1807 عیسوی

انگلینڈ

ٹین کے ڈبوں میں بند کھانے

1810 عیسوی

فرانس ، انگلینڈ

سپیکٹرو کوپ

1814 عیسوی

جرمنی

کاکنوں کی لیمپ

1815 عیسوی

انگلینڈ

فوٹو گرافی

1816 عیسوی

انگلینڈ ، فرانس

سٹیتھو سکوپ

1819 عیسوی

فرانس

واٹر پروف کپڑے

1823 عیسوی

سکاٹ لینڈ

برقی میقنا طیس

1823 عیسوی

انگلینڈ

مسافروں والی ریلوے

1825 عیسوی

انگلینڈ

مائیکرو فون

1827 عیسوی

انگلینڈ

سلائی مشین

1830 عیسوی

فرانس

گھاس کاٹنے والی مشین

1830 عیسوی

انگلینڈ

برقی ٹیلی گرافی

1833 عیسوی

جرمنی

ریفریجیشن

1834 عیسوی

انگلینڈ

پروپیلر

1835 عیسوی

انگلینڈ

میکینکل کلکلیٹر

1835 عیسوی

انگلینڈ

ریوالور

1835 عیسوی

یو ایس اے

ڈاک کا ٹکٹ

1840 اعیسوی

انگلینڈ

فیکس مشین

1843 عیسوی

سکاٹ لینڈ

جراثیم کش ادویات

1847 عیسوی

ہنگری