Friday, August 29, 2008
آسان تو نہیں ہے
بس گھر میں جی لگانا آسان تو نہیں ہے
نہ دیکھنا کسی کو نہ پوچھنا کسی کا
یونہی گزرتے آنا آسان تو نہیں ہے
شہروں کے دھندلکوں میں گم ہو کے بھولنے سے
پھر گھر کو لوٹ آنا آسان تو نہیں ہے
ان رونقوں سے باہر ان محفلوں سے آگے
اک اور گھر بسانا آسان تو نہیں ہے
آسان تو نہیں ہے کہہ کر اسے بھلانا
اور دل سے بھول جانا آسان تو نہیں ہے
پھیلی ہوءی ہیں
کوششیں پھیلی ہوءی ہیں
چاروں جانب راستوں میں
منزلیں پھیلی ہوءی ہیں
جھٹپٹوں کی بستیوں میں
عورتیں پھیلی ہوءی ہیں
بےشمار آسانیوں میں
محنتیں پھیلی ہوءی ہیں
دور تک اس آسماں میں
مشکلیں پھیلی ہوءی ہیں
خشک شہلاتی ہوا میں
دھڑکنیں پھیلی ہوءی ہیں
سمٹے سے آفاق میں کیا
گردشیں پھیلی ہوءی ہیں
سوچ ہی تو سکتے ہیں
دلکشا نظاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں
سوچ ہی تو سکتے ہیں دور آسمانوں کا
چاند اور ستاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں
نہ فضا ہماری ہے نہ فلک ہمارا ہے
ہم فقط سہاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں
نہ ہماری ہمت ہے نہ ہماری قدرت ہے
قسمتوں کے ماروں کا سوچ ہی تو سکتے
خواہشوں تمناؤں کوششوں ارادوں کا
دھوپوں اور کناروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں
سوچ ہی تو سکتے ہیں رہنماؤںسفروں کا
دور رہگزاروں کا سوچ ہی تو سکتے ہیں
Wednesday, June 25, 2008
چاءلڈ لیبر اور پاکستان
مجھے ہمیشہ بہت عجیب لگا ہے کہ وہی سڑکیں وہی عمارتیں وہی چوک کسی اور سے کسی اور نکر پر کھڑے ہو کر دیکھنے سے عجیب نءے اور اجنبی سے نظر آنے لگتے ہیں۔ مانے ہوءے پلان جانچے ہوءے نقشے محض ذرا سی نءی سوچ سے فضول لگنے لگتے ہیں۔ ایک ذرا سی سوچ ایک معمولی سا زاویہ کتنا بڑا فرق پیدا کر دیتا ہے چیزوں کی مجموعی انجام پزیری میں۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان کے ارباب اقتدار کسی قانون کو پاس کرنے سے پہلے ، کسی منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے کسی کنسیپٹ یا اصول کو متعارف کروانے سے پہلے شاءد غور و خوض یا تدبر کرنا گوارا نہیں کرتے۔ محض اصول بنا دینا کافی نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اصول ایسا ہو جو لوگوں کے لءے قابل قبول ہو۔ اگر ہمیں محسوس ہو کہ لوگ اس اصول کو توڑ دیں گے اور اس پر قطعی عمل نہیں کریں گے تو ہمیں ایسا اصول متعارف کروانے سے گریز کرنا چاہءے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو لوگوں میں صحیح اصولوں اور قوانین پر عمل کرنے کی حس بھی ختم ہو جاءے گی اور اصول توڑنا ان کے لیءے کوءی بری بات نہیں رہے گی۔
چاءلڈ لیبر کے خلاف اٹھنا ، لوگوں کو آگہی دینا کہ بچوں سے کام کروان یا بچوں کو کام پر رکھنا اچھی چیز نہیں ہے ، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ عملی طور پر لوگوں کو روکنے کے لءے قانون بنانا ، اس نقطہ نظر سے ٹھیک نظر آتا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور انہیں بہتر سے بہتر پرورش ضرورر ملنی چاہءے ، اور یہ کہ بچے معصوم ہیں ، بےبس ہیں ، بڑوں کو بچے اپنے مقاصد کے لءے استعمال نہیں کرنے چاہییں۔ اگر بات صرف اتنی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ ہمیں معصوم بچوں کے ہاتھوں میں کاپیاں کتابیں دینا چاہءے نہ کہ اوزار اور آلات۔
لیکن بات شاءد اتنی سادہ نہیں ہے۔ ہم چاءلڈ لیبر کے قانون اس لءے بنا رہے ہیں کہ ہمیں ایسے قانون بنانے کے پیسے ملیں گے۔ لوگ سکول اس لءے کھول رہے ہیں کہ انہیں سکول کھولنے کے پیسے ملیں گے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ایجنسیوں کی معاونت پر چلنے والے ان سکولوں میں ہم کیا پڑھا رہے ہیں۔ کیا ہم کسی اور ملک لءے لیبر تو تیار نہیں کر رہے۔ کیا ہم دوسرے تمام سکولوں کی طرح ایسے ذہن تو پیدا نہیں کر رہے جو یا تو بیرون ملک جانا پسند کرتے ہیں یا اپنے ہی ملک کو بیرون ملک میں بدلنے کی خواہش میں کڑھتے رہتے ہیں۔ ان کے ملک میں رہنے کا بھی نقصان ہے اور باہر جانے کا بھی۔ ملک میں رہتے ہیں تو بے چین رہتے ہیں اور باہر جاتے ہیں تو ملک کو ایک اچھے اور پڑھے لکھے دماغ سے محروم کر کے دوسرے ملک کو فاءدہ پہنچاتے ہیں۔ ظاہر ہے کیمبرج ، ہارورڈ اور آکسفورڈ سے ایفیلی ایٹڈ سکولوں سے پیدا ہونے والا دماغ پاکستان میں رہنے پر تیار نہیں ہو گا۔
ہم نے سکولوں میں مار نہیں پیار کے اشتہار لگا دیے ہیں۔ بظاہر یہ ایک اچھی چیز ہے۔ لیکن کیا ہم اس دور کے لءے تیار ہیں جب ان سکولوں سے پڑھنے والے معاشرے کا حصہ بننے کے لءے عملی زندگی میں داخل ہوں گے۔ کیا ہمارے معاشرے کا تانا بانا ایسے دماغوں کے لءے تیار ہے جنہوں نے کبھی بے عزتی برداشت نہ کی ہو ، جنہوں نے کبھی مار نہ کھاءی ہو۔
آج ہم چاءلڈ لیبر کے قوانین متعارف کروا رہے ہیں۔ کیا ہم اس بات پر غور بھی کرنے کے لءے تیار ہیں کہ جن بچوں کو ہم پہلے پڑھا چکے ہیں انہیں اپنی پڑھاءی سے کتنے فواءد حاصل ہوءے ہیں۔ کیا ہم نے انہیں ایسا معاشرہ دینے کی کوشش کی جہاں وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں ، جہاں جاہل مالک انہیں استعمال نہ کر سکے۔ کیا ہم نے پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد کے موافق مواقع پیدا کءے۔ چاءلڈ لیبر سے منع کیسے کیا جا سکتے ہے جہاں ایک قلفیاں بیچنے والے کی دیہاڑی ایک ایم اے پاس ٹیچر سے زیادہ ہو۔ جہاں مزدور کی دیہاڑی ایک آفس کلرک سے زیادہ ہو۔ جو لوگ سولہ سولہ سال پڑھ کر اس معاشرے میں کمانے کے لءے نکلے ہم نے ان کو کتنی عزت دے دی جو ان بچوں کو ورکشاپوں اور فیکٹریوں سے اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہو سکتا ہے اپنے والدین کا اکلوتا سہارا ہوں اور جو ہو سکتا ہے اپنے خاندان کے واحد کفیل ہوں ، اور جو ہو سکتا ہے اپنے سے پہلے بچوں کی طرح ورکشاپ پر کام کرتے کرتے ایک دن اپنی ورکشاپ یا کاروں کے شوروم کے مالک بن جاءیں اور کءی ایک ایم اے پاس لوگوں کو اپنے ہاں ملازم رکھ لیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ ایک آدمی اعلیٰ تعلیم کے باوجود اپنی گزر بسر جتنا بھی نہیں کما رہا اور دوسرا انپڑھ ہونے کے باوجود فیکٹریوں اور ورکشاپوں کا مالک ہے۔ میرے خیال میں اس وقت سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ پڑھا لکھا طبقہ ہے۔ جو آدمی اپنا کام کر رہا ہے چاہے وہ کتنا بھی معمولی ہے مہنگاءی کے ساتھ مہنگاءی کر لیتا ہے ، بلکہ یوں کہنا چاہءے کہ اگلے دنوں میں ہونے والی مہنگاءی بھی کر لیتا ہے۔ آج پٹرول بڑھتا ہے اور اگلے دن بسوں کے کراءے دو دو روپے بڑھ جاتے ہیں ، سیگریٹ ایک روپیہ بڑھ جاتی ہے اور روٹی پہلے سے اور چھوٹی ہو جاتی ہے۔ اور نہیں بڑھتی تو تنخواہ دار کی تنخواہ نہیں بڑھتی۔ کب ہڑتال کی دھمکی دیں گے ، کب باس غور کرے گا اور کب تنخواہ بڑھے گی۔ حکومت ایک سال بعد بڑھاءے اور مہنگاءی ہر روز ہو گی۔
میرے والدین مجھے اس لءے سولہ سال پڑھاتے رہے کہ میں ایک باعزت روزگار حاصل کروں گا۔ لیکن جب میں پڑھ کر معاشرے میں نوکری کے لیءے آیا تو پتہ چلا کہ نوکری نہیں ہے۔ ایسی نوکریاں ہیں جہاں مجھ سے کم پڑھے لکھے اچھا کام کر رہے ہیں ، جہاں باس انپڑھ ہے اور کولیگ جاہل۔ دوسرے طرف چاءلڈ لیبر کا شکار میرے ہم جماعت نہ صرف پچیس سال پہلے اتنا کمانے لگے جتنا میں اب کماتا ہوں بلکہ اس وقت اپنی اپنی ورکشاپوں اور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ مجھے جب بھی کسی الیکٹریشن ، پلمبر ، مستری وغیرہ کی ضرورت پڑی انہوں نے مجھے یہی کہا کہ مجھے ان کے کام کا بالکل علم نہیں ہے اور یہ کہ مجھے جیسا وہ کہتے ہیں ویسا ہی کرتے جانا چاہءے۔ اگر میں نے ایک دو بار انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو یہی کہا کہ پڑھ لکھ کر آدمی کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور یہ کہ پڑھا لکھا آدمی وہمی اور شکی ہوتا ہے۔ مجھے ان کے اپنے انپڑھ ہونے پر اعتماد سے ہمیشہ یہی لگا کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں۔
مجھے اس سارے معاملے میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے لوگوں کو پڑھنے پر تو لگا دیا لیکن ایسا معاشرے نہ دے سکے جو ان لوگوں کو مواقع مہیا کرتا۔ یا تو پڑھے لکھے لوگ باہر چلے گءے ، یا پاکستان کو برا بھلا کہتے رہے ، یا جاہل لوگوں کے ماتحت کام کرتے رہے یا کرپٹ ہو گءے۔ پڑھے لکھے لوگ اس ملک اور معاشرے کے کسی طرح کام نہ آ سکے۔
آج ہم ان چاءلڈ لیبر میں پڑے بچوں کو کتابیں دینا چاہتے ہیں تو صرف ایجنسیوں سے پیسے لینے کے لءے نہ ہو ، ہم یہ بھی سوچیں کہ آگے چل کر جب یہ لوگ معاشرے کا حصہ بنیں گے تو ہمارے پاس انہیں دینے کے لءے کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ان کا حال بھی چھین رہے ہوں اور مستقبل بھی۔ بطور ایک استاد میں ایک عرصے سے یہ کہنا چھوڑ چکا ہوں کہ بیٹے اگر پڑھو گے تو باعزت نوکری مل جاءے گی ، اپنا کام اچھا کرو گے ، معاشرے میں عزت ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور یہ کہ بچہ بھی جانتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
پاکستانی سیاستدانوں کی عوام دوستی
میں جب بھی پاکستان کے مساءل پر سوچتا ہوں اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لءے اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا مسءلہ کیا ہے تو مجھے ایک ہی جواب آتا ہے ۔۔۔۔۔ تفاوت۔ آزادی کے وقت سے چلا آ رہا یہ مسءلہ سنگین سے سنگین تر شکل آختیار کرتا جا رہا ہے۔ پانچ مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے صوبے کءی ایک اعتبار سے ایک دوسرے سے دور تھے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انہیں یعنی ان کے رہنے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاءے۔ لیکن ایسا نہ کیا ، نہ ہو سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زبانوں اور ثقافتوں کی تفاوت بے شمار چھوٹی بڑی تفاوتوں میں آگے بڑھتی رہی اور آج ہم ایک ایسے مقام پر آ گءے ہیں جہاں کوءی کسی کو نہیں جانتا۔ اندرونی طور پر جاننا تو درکنار ہم بیرونی طور پر بھی ایک دوسرے کو پہچاننے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ باپ کو بچے ، بچوں کو باپ ، عورت کو مرد ، مرد کو عورت ، مالک کو ملازم ، ملازم کو مالک ، استاد کو شاگرد ، شاگرد کو استاد ، غرض جس تعلق اور رشتے کو بھی دیکھیں ہمیں یہی محسوس ہو گا کہ کوءی کسی کو نہیں پہچانتا۔ اختلافات ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ تفاوتیں ہیں کہ جنم لیتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ مذہبی مبلغوں نے ایسی تبلیغ کی کہ لوگ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کے لءے تیار نظر نہیں آتے۔ ہر آدمی دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہر کوءی دوسرے کو غلط سمجھتا ہے ، اور ہر آدمی کا خیال کہ دوسرا اس کو لوٹنے ، بیوقوف بنانے یا گمراہ کرنے کی تاک میں ہے۔ ایک علاقے کا آدمی دوسرے علاقے میں جانے سے ڈرتا ہے ، ایک شہر کا آدمی دوسرے شہر میں جانے سے گھبراتا ہے ، اور ایک صوبے کا آدمی دوسرے صوبے میں جانے سے خوف کھاتا ہے۔ دوست دوستوں کی تاک میں ہیں اور ہمساءے ہمسایوں سے چوکنے ہیں۔ سکیورٹی گارڈ مالکوں کو گولی سے اڑا رہے ہیں اور باپ بچوں کو ذبح کرنے کے درپءے پیں۔ طلاقوں ، عاق ناموں ، لا تعلقیوں وغیرہ کے اعلانات کا کالم پہلے سے دوگنا ہوتا جا رہا ہے۔ ماں باپ نالاں ہیں کہ اولاد نافرمان ہے ، اولاد روتی ہے کہ مان باپ ان سے لاتعلق اور اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ بیوی کو شکاءت ہے کہ شوہر بے راہرو ہیں ، شوہروں کو اذیت ہے کہ بیویاں بد کردار ہیں۔ بہنیں کہتی ہیں کہ بھاءی بے غیرت ہیں ، بھاءی کہتے ہیں کہ بہنوں کو شرم و حیا نہیں۔ استاد کہتے ہیں کہ شاگرد بد تمیز ہیں ، شاگرد کہتے ہیں کہ استاد نالاءق ، ظالم اور خود غرض ہے۔ امام کہتے ہیں کہ نمازی بے عمل ہیں ، نمازی کہتے ہیں کہ امام صاحب جھوٹے اور دنیا دار انسان ہیں۔ ملازم مالک کو حرام خور سمجھتا ہے اور مالک ملازم کو بے ایمان اور کام چور۔ کوءی رشتہ ایسا نہیں رہا جس پر اعتبار کیا جا سکے ، یا جس پر اعتبار باقی رہ گیا ہو۔ آءے دن کوءی نہ کوءی کسی نہ کسی کو شک و شبہے میں یا رنگے ہاتھوں پکڑ کا مارتا اور قتل کرتا مل رہا ہے۔ کوءی شعبے ایسا نہیں رہا جس میں کسی کو کسی کا اعتبار ہو۔ ہر کوءی اسی کشمکش میں ہے کہ اگر وہ دھوکا نہیں دے گا ، الو نہیں بناءے گا ، وعدہ خلافی نہیں کرے گا ، تو دوسرا ایسا ضرور کرے گا۔ ہر کوءی یہی سمجھتا ہے کہ دھوکا کھانے سے پہلے دھوکا دے دینا بہتر ہے۔ کیا ساءل اور کیا افسر ، کیا گاہک اور کیا دکاندار ، سب ایک ہی اذیت کا شکار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے اعتباری۔ ہر کوءی دوسرے کو پہلی ملاقات میں ہی ختم کر دینے کا تہیہ کءے ہوءے نظر آتا ہے۔
یہ سب پہلے بھی تھا ، لیکن اتنا نہیں تھا۔ سو میں سے ایک آدھ انسان ایسا نظر آتا تھا ، اور وہ بھی دوسروں کو دیکھ کر یا تو ٹھیک ہو جاتا تھا ، یا اپنی بے اعتباری اور بد حواسی کو اپنے تک محدود رکھتا تھا۔ اب تو حد ہی ہو گءی ہے۔ اور حد کا سوچ کر لگتا ہے شاءد حد نہ ہوءی ہو اور اس سے بھی بدتر صورت حال دیکھنے کے لءے زندہ رہنا پڑے۔ تمام مساءل کا حل حکمرانوں سے ہی متوقع تھا ، اور اب تو حکمران بھی عوام کو اپنا دشمن اور عوام حکمرانوں کو اپنے بدخواہ سمجھنے لگے ہیں۔ اب یہ سب کچھ کس طرح ٹھیک ہو گا کوءی کچھ نہیں کہ سکتا۔ حکمران عوام سے لاتعلق اور بے خبر تو پہلے بھی رہتے ہوں گے ، لیکن شاءد اتنے اور اس طرح نہیں رہتے تھے۔ اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حکمران عوام کا سب سے بڑا دشمن ہو۔ عوام کو سہولتیں دینا تو درکنار وہ تو ان کا حوصلہ بھی چھیننے کے درپءے ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے حکمران محض عوام کو نچوڑنے اور ان کی کھال نوچنے کا پروگرام بناتے ہیں اور بس۔ کس جگہ ٹیکس لگایا جاءے ، کس جگہ پھسایا جاءے ، کیسے مارا جاءے ، کیسے بھگایا جاءے ، ایسا لگتا ہے حکمران کسی نہ کسی نءے منصوبے اور مشورے کا انتظار کرتے ہیں اور بس۔ بجلی ، پانی اور گیس کے تیز رفتار میٹر جو سو روپے کا بل دو سو روپے میں بھیجیں۔ ہر چوک اور سڑک پر تربیت یافتہ چالان کنندہ۔ لاکھوں کے عوض گورنمنٹ کی پوسٹوں پر تقرریاں ، اور پتہ نہیں کیا کچھ۔
اگر ہمارے حکمران عوام سے دور نہیں ، اگر انہیں عوام کے مساءل کا علم ہے تو پچھلے دنوں شاءع ہونے والے گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کے لءے متعارف ہونے والی ہاءسنگ سکیم سے یہی نظر آتا ہے کہ عوام کو نچوڑنے ، نوچنے کچلنے کا یہ منصوبہ بڑی خوشدلی سے قبول کیا گیا ہو گا۔
پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی کی طرف سے شاءع ہونے والے اس اشتہار کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ ہر درخواست دہندہ اپنی درخواست کے ساتھ 50 ہزار روپے جمع کرواءے گا ، اور یہ کہ الاٹمنٹ کے وقت کل رقم کا 15 فیصد جو کہ تقریباً 2 لاکھ روپے بنتے ہیں ، جمع کراءے گا ، اور یہ کہ 130450 روپے کی ماہانہ قسط کی صورت میں بقیہ رقم جو کہ 1565000 کے لگ بھگ ہے بارہ مہینوں میں ادا کرے گا۔ مجھے صرف یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وزیر اعظم کی ہاءوسنگ سکیم کا مشورہ دینے والے صاحب نے یہ کیسے گمان کر لیا کہ ان کے ملک کا گریڈ ایک سے گیارہ کا ملازم مندرجہ بالا فیسیں اور اقساط جمع کرانے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ شاءد حکمرانوں کو یقین ہے کہ ان کا ہر ملازم رشوت خور اور جھوٹا ہے ، وہ اتنا غریب ہے نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ شاءد حکمرانوں کو روپےکی قیمت کا اندازہ ہی نہ ہو اور انہیں علم ہی نہ ہو کہ ایک سو بلکہ ایک ہزار روپے کی قیمت ایک روپے جتنی ہو چکی ہے۔
کوءی جو مرضی کہہ لے مجھے صرف یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکمران عوام سے بے خبر ہیں اور انہیں عوام کے مساءل کا حل تو کیا ان کے مساءل کا بھی کوءی علم نہیں۔
Monday, June 9, 2008
آئن سٹائن دہریہ نہیں تھا
انسانی دماغ مختلف فوبیاز ، مینیاز ، کمپلکیسز ، ابسیشنز وغیرہ کا مرکب ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ان فوبیاز مینیاز وغیرہ کی تعداد سینکڑوں کے لحاظ سے ہے۔ خواب اور وہمے ان سے علحیدہ ہیں۔ چھٹی حس اور کامن سینس ایک اور پہلو ہے۔ ویژن اور ہیلوسینیشن ایک اور رنگ ہے۔ کئی ایک احساسات ، کئی ایک جذبات بے شمار قوتوں اور ان گنت خیالات پر مشتمل انسانی دماغ ایک ایسی نشوونما پر پیدا ہوا ہے جو دائیں بھی ہو سکتی ہے اور بائیں بھی، آگے بھی ہو سکتی ہے اور پیچھے بھی ، اوپر بھی اور نیچے بھی اورایک ہی جگہ ساکت و جامد رہ کر بھی ہوسکتی ہے۔ اگر اس دماغ کی لذتوں کو شمار کریں تو کوئی انتہا نہیں ملتی اور اگر اسکے رنج و الم کو گنیں تو کوئی سراغ ہاتھ نہیں آتا۔ عقل تو انسانی دماغ کا ایک مختصر سا حصہ ہے ، لیکن اس مختصر سے حصے کے استعمال سے پیدا ہونے والی دنیا دیکھیں کیسی کیسی ایجادات سے مزین ہو چکی ہے۔
جس طرح انسان کائنات کو مسخر کرتا آ رہا ہے اسی طرح عقل اپنے سےکئی کئی گنا بڑے دوسرے دماغی حصوں کو مسخر کرتی آرہی ہے۔ باہر اور اندر دونوں کی تسخیر بہر حال رنج اولم سے خوف کا نتیجہ ہی ہے۔ تکلیفوں سے گریز کرنے کی بجاءے انہیں بھگتنے اور ان سے گزرنے میں کاءنات کی کیسی تسخیر سامنے آتی شاءد ہم اس بات کا تصور کرنے کے لءے بھی تیار نہیں ہیں۔ عقل بہر حال وہ دماغی خصوصیت ہے جس نے توہم ، جو ایک اور بہت بڑی دماغی خصوصیت تھی ، کو کافی حد تک مسخر کر لیا ہے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ توہم سے حاصل ہونے والے نتائج و فوائد بھی اتنے ہی زیادہ تھے جتنے کہ عقل سے حاصل ہونے والے نتائج و فوائد ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ توہم سے حاصل ہونے والے نتائج و فوائد وقت اور فاصلے کی حدوں پر زیادہ غالب تھے۔ بات شاید اتنی ہے کہ عقل اور توہم کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے تھا۔ انسان کے اندر جتنی نشوونما عقل نے حاصل کی توہم بھی اتنی ہی نشوونما حاصل کرتا اور یہ کہ نہ تو توہم عقل کو ختم کرتا اور نہ عقل توہم کو مسخر کرتی۔ عقل اور توہم کے عدم تناسب سے ایک وقت تھا جب بت پرستی نے جنم لیا اور دوسرا وقت یہ ہے جب دہریت پیدا ہوئی۔ پہلے وقت میں توہم زیادہ تھا اور دوسرے میں عقل زیادہ۔
انسانی علم ایک تو انسان کے اپنے تجربات پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرا کسی دوسرے انسان کے تجربات پر۔ علم کی فطرت یہ ہے کہ یہ کسی نہ کسی تجربے پر منحصر ہوتا ہے اورعمل کی فطرت یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی علم پر مبنی ہوتا ہے۔ بعض لوگ اپنے تجربے سے حاصل ہونے والے علم کو تو مان سکتے ہیں لیکن کسی دوسرے کے تجربے سے حاصل ہونے والے علم کو نہیں مان سکتے۔ ان کی منزل دہریت ہے اور ایسی دہریت خدا سے ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔ آءن سٹاءن ایک ایسا دہریہ تھا جو یہ قدم اٹھا چکا تھا۔
دراصل انسان کے اندر کی دنیا بھی اتنی ہی وسیع ،رنگا رنگ اور پیچیدہ ہے جتنی کہ باہر کی ۔ صوفی اور سانس دان میں صرف اتنا فرق ہے کہ صوفی انسان کے اندر کی دنیا دریافت کرنے اور مسخر کرنے میں لگا رہتا ہے جبکہ سائنس دان انسان کے باہر کی دنیا کو دریافت کرنے اور مسخر کرنے میں لگا رہتا ہے۔ ہر بڑا صوفی کسی نہ کسی وقت بالائے مذہب ہو کر سوچنے پر مجبور ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر بڑا سائنسدان بالائے مذہب ہو کر ضرور سوچتا ہے۔ روایتی مذہب کو نہ صوفی قبول کرتا ہے اور نہ سائنسدان ۔ اصل میں غور سے دیکھا جائے تو صوفی اور سائنسدان مذہب کی جس شکل کو مانتے ہیں وہ اس مذہب کی اولین شکل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ روایتوں ، درائتوں ، تاویلوں ، تفسیروں وغیرہ کے مذہب کا حصہ بن جانے کو نہ صوفی مانتا ہے اور نہ سائنسدان۔
آئن سٹائن دہریہ نہیں تھا ۔ لیکن وہ نہ تو مذہب کی اس شکل کو مانتا تھا جو چار ہزار سال کی تشریحات پر مشتمل تھی ، اور نہ خدا کے اس تصور کا قائل تھا جو اوسط درجے کی عقل رکھنے والے لوگوں نے اپنی حدودِ علم ، حدودِ قیاس اورحدودِ قوت سے خائف ہو کر قائم کیا ہوتا ہے۔
پچھلے دنوں نیلامی کے لیے پیش ہونے والے آئن سٹائن کے ایک خط کے متن پر بحث کرتے ہوئے لوگوں نے آئن سٹائن کے مذہبی خیالات کو جس طرح لامذہبیت یا دہریت کے نام سے موسوم کیا ہے ، میرے خیال میں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ آئن سٹائن نے اگر خدا کو انسانی بے بسی اور کم علمی کی تخلیق کہا ہے اور بائبل کے بچگانہ محسوس ہونے کا اظہار کیا ہے تو اس کا مطلب خدا کے اس تصور سے تھا جو کم عقل اور بے بس لوگوں نے قائم کیا ہوا ہے ، اور اس کا مطلب بائبل کی ان تشریحات سے تھا جو لوگوں کو خوفزدہ کر کے کچھ اعمال کروانے اور کچھ سے پرہیز کروانے کے لءے کی ہوءی ہیں۔ میرے خیال میں آئن سٹائن کا یہ کہنا کہ کائنات ایک انوکھی الویت یا روحانیت سے بھری ہوئی ہے اس کے مذہبی ہونے کی دلیل ہے۔ آئن سٹائن جس نے کبھی یہ کہا تھا کہ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے اپنی آخری عمر میں ایک ایسے وجود کے احساس میں محصور تھا جسے وہ مذہب کا کائناتی احساس کہہ کر پکارتا تھا ۔ اس کا خیال تھا کہ خدا قوانین کا موجد ہے نہ کہ جزا اور سزا دینے والا حاکم۔ اپنی کائنات میں خدا نے کچھ اصول جاری کیے ہوئے ہیں اور وہ ان اصولوں میں تبدیلی نہیں کرتا ۔ آئن سٹائن کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ کائنات قدرت اور فطرت میں ایک ایسی عقل کارفرما ہے جو انتہائی اعلٰی سطحی یا ناقابل تحییط محسوس ہوتی ہے۔
اس بات کو نظر انداز کر کے کہ آئن سٹائن نے روایتی یا مروجہ یہودیت سے انکار کیا ہے اگر ہم کائنات کے بارے میں اس کے خیالات، احساسات یا تجربات کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی قوت کا قائل ضرور تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئن سٹائن نے خدا کو بقدر روح محسوس کرنے کی بجاءے ، بقدر عقل محسوس کیا ہے۔ اگر انسان روح، عقل اور جسم کا مرکب ہے تو آئن سٹائن نے خدا کو عقل کے راستے میں پایا ہے نہ کہ روح کے۔ یہ اور بات ہے کہ صوفی خدا کو روح کے راستے میں پانے کے قائل ہیں۔
حصہ چہارم
| ایجادات | کب ہوئیں | کہاں ہوئیں | کیا اثرات چھوڑے |
| مونگ پھلی کی کاشت | 9سو 50 سال قبل مسیح | جنوبی امریکہ | |
| گھوڑوں کا جنگی استعمال | 9 سو سال قبل مسیح | میسوپوٹامیا | |
| نقلی دانت | 7 سو 50 سال قبل مسیح | اٹروریا (آج کا اٹلی) | |
| دھاتی کفل اور چابیاں | 7 سو 50 سال قبل مسیح | روم | |
| لوہے کی قینچیاں اور آریاں | 7 سو 50 سال قبل مسیح | یورپ | |
| جنگی بھڑیں | 7 سو سال قبل مسیح | فنیشیاء ، مصر | |
| موسیقی کی لکھائی | 7 سو سال قبل مسیح | بھارت | |
| آبیاشی کا نظام | 7 سو سال قبل مسیح | میسو پوٹامیا ، مشرقی وسطی | |
| ارشمید س کا پیچ | 7 سو سال قبل مسیح | میسوپوٹامیا | |
| سہ رخی تصاویر | 6 سو 50 سال قبل مسیح | یونان | |
| پن چکی | 6 سو 50 سال قبل مسیح | فارس | |
| ٹیکسائل | 6 سو 40 سال قبل مسیح | لیڈیا (آج کا ترکی) | |
| چوگان ( پولو) | 6 سو سال قبل مسیح | فارس | |
| لائیٹ ہاؤس | 6 سو سال قبل مسیح | بحیرہ روم | |
| لنگر کا استعمال | 5 سو 92 سال قبل مسیح | یونان | |
| پیچ | 5 سو 50 سال قبل مسیح | یونان | |
| پانی کی سرنگیں | 5 سو 50 سال قبل مسیح | یونان | |
| شاہراہیں | 5 سو سال قبل مسیح | فارس | |
| پاسپورٹ (پروانہ راہداری) | 5 سو سال قبل مسیح | فارس | |
| جمہوریت | 4 سو 78 سال قبل مسیح | ایتھنز (یونان) | |
| تیر اندازوں کا جنگی استعمال | 4 سو 40 سال قبل مسیح | یونان | |
| منجنیق | 4 سو سال قبل مسیح | کارتھیج (یونان) | |
| آئینہ | 4 سو سال قبل مسیح | فنیشیاء | |
| آئس کریم | 4 سو سال قبل مسیح | فارس | |
| عجائب گھر | 3 سو 23 سال قبل مسیح | مصر | |
| کرونالوجی | 3 سو 12 سال قبل مسیح | فارس | |
| بھاپ کا استعمال | 300 سال قبل مسیح | مصر | |
| لیور | 250 سال قبل مسیح | یونان | |
| پسٹن | 2 سو 50 سال قبل مسیح | مصر | |
| گھوڑوں کا سامان (کاٹھیں ، لگام، رکاب وغیرہ) | 2 سو سال قبل مسیح | چین | |
| کتاب | 180 سال قبل مسیح | یونان | |
| پیچ سے دبنے والی پریس | 150 سال قبل مسیح | روم | |
| مرکزی درجہ حرارت | 150 سال قبل مسیح | روم | |
| شیشے کی صعنت | 1 سو سال قبل مسیح | شام | |
| عوامی حمام | 1 سو سال قبل مسیح | روم | |
| قرطاس | 1 سو سال قبل مسیح | پرگامم (آج کا ترکی) | |
| قبضوں والے چکو | 1سو سال قبل مسیح | چین | |
| گھڑی کے اصول پر جاری مشنیری | 82 سال قبل مسیح | یونان | |
| کھڑکیوں کے پھٹ | 6سو سال قبل مسیح | روم | |
| بھاپ کا غسل | 6 سو سال قبل مسیح | یورپ | |
| کلینڈر | 45 سال قبل مسیح | روم | |
| کوئلے کی کانیں | 40 سال قبل مسیح | چین | |
| جراثیم کُش ادویات | 40 سال قبل مسیح | چین | |
| گنبد | 30 سال قبل مسیح | روم | |
| انگوٹھےکےنشان کا استعمال | چین | 30 سال قبل میسح | |
| سڑکوں کے نقشے | روم | 30 سال قبل مسیح | |
| آلات جراحی | بھارت | 30 سال قبل مسیح | |
| مچھلیوں کی افزائش | بحیرہ روم | 15 سال قبل مسیح | |
تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ پنجم
| ایجادات | کب ہوئیں | کہاں ہوئیں | کیا اثرات چھوڑے |
| سموکنگ پائپ (دخان کش) | 10 عیسوی | شمالی امریکہ | |
| ڈیڑجنٹ | 10 عیسوی | چین | |
| رہائشی بدریں | 20 عیسوی | روم | پائپوں کی طرح بنی ان گھریلو بدرووں کے آگے سیسے کے منہ اور پانی وا لے نلکے لگے ہوتے تھے۔ |
| بھاری ہل | 100 عیسوی | روم | |
| کاغذ | 105 عیسوی | چین | |
| رہائشی کواٹر | 120 عیسوی | روم | |
| چراہی | 140 عیسوی | بحیرہ روم | |
| جدید اعداد اور صفر کا استعمال | 150 عیسوی | بھارت | کہا جاتا ہے کہ آریا بھاٹا کے بنائے ہوئے اس اعددی نظام کو عربی اعداد کا نام محض غلط فہمی یا غلط بیانی کی بنیاد پر دیا گیا تھا |
| چھپائی | 150 عیسوی | چین | |
| آئیسٹر کی کاشت | 150 عیسوی | چین | |
| آبیکس | 190 عیسوی | چین | آبیکس وہ ایجاد ہے جو آنے والی صدیوں میں کیلیٹر اور کمپیوٹر کی صورت اختیار کر گئی |
| چینی مٹی کے برتن | 190 عیسوی | چین | |
| چڑیا گھر | 248 عیسوی | روم | |
| نقشوں پر لمبائی اور چوڑائی کی علامتیں | 265 عیسوی | چین | |
| الجبراء | 275 عیسوی | یونان | |
| گلیوں میں تیل سے جلنے والے چراغون کا استعمال | 300 عیسوی | شا م | |
| گیس سے جلنے والے چراغ | 300 عیسوی | شا م | |
| گیس والے پائپ | 347 عیسوی | چین | بانس سے بنے ہوئے یہ پائپ قدرتی گیس کو استعمال کرنے کے لیے کام میں لائے جاتے تھے۔ |
| چائے | 350 عیسوی | چین | شروع شروع میں چائے دوائی کے طور پر استعمال کی جاتی تھی |
| ڈاکٹری اجازت نامے | 361 عیسیوی | بازنطین (آج کا استنبول یا ترکی) | |
| ایسٹولیبل | 400 عیسوی | مصر | |
| ہائیڈرومیٹر | 400 عیسوی | مصر | |
| مکھن | 400 عیسوی | یورپ | |
| وسکی | 450 عیسوی | یورپ | |
| برانڈی | 500 عیسوی | چین | |
| سسپنشن بریج | 500 عیسیوی | چین | یہ ایک ایسا سسپنشن بریج تھا جس میں لوہے کی زنجیریں استعمال کی گئی تھیں۔ |
| ریشمی ملبوسات پر چھپائی | 500 عیسوی | چین | |
| قالین | 550 عیسوی | فارس | |
| ماچس | 577 عیسوی | چین | سلفر کے استعمال سے چلنے والی یہ ماچسیں ان ماچسوں کو انگلینڈ کے جان واکر نے 1826 میں دوبارہ متعارف کروایا۔ |
| ڈاک خانہ | 600 عیسوی | فارس | |
| بھونچال سے محفوظ عمارتیں | 600 عیسوی | بازنطین | |
| سیاسی آئین | 604 عیسوی | جاپان | |
| شطرنج | 621 عیسوی | بھارت | |
| کبوتر کے ذریعے خطو خطابت | 630 عیسوی | عرب | |
| کیمیائی جنگ | 673 عیسوی | بازنطین | یونانیوں نے ایک ایسی آگ بنائی جو پانی پر جلتی تھی |
| بھبھوکے والی بٹی | 700عیسوی | یورپ | |
| طے ہونے والے پنکھے | 700 عیسوی | جاپان | |
| تصویری چھپائی | 765 عیسوی | جاپان | |
| شفاف چینی مٹی | 800 عیسوی | چین | |
| ٹھنڈا پانی | 800عیسوی | یورپ | |
| کیمونو | 800 عیسوی | جاپان | |
| کنگھی | 800 عیسوی | یورپ | |
| عمل کشید | 800عیسوی | عرب | جابر بن حیان کی اس دریافت نے آنےوالے سالوں میں بیشمار علوم وفنون کے دروا کیے۔ |
| شیشے کی جھال والے برتن | 810 عیسوی | عرب | |
| حساب اور الجبرء | 825 عیسوی | فارس | الخوارزمی کی بیشمار اضافیات نے نہ صرف الجبرے کی بالکل نئی شکل متعارف کروائی بلکہ اسےاانےوالی صدیون میں کئی دوسرے علوم کی بنیاد بنا دیا۔ |
| چکی | 823 عیسوی | یور (ہالینڈ) | اگرچہ چکی غلہ پیسنے کےلیے پہلے ادوارء میں بھی زیر استعمال تھی لیکن یہ گھومنے والی چکی اپنے وقت کی انتہائی جدید شکل و صورت والی ایجاد تھی۔ |
| بارود | 850 عیسوی | چین | |
| چھپی ہوئی کتابیں | 866 عیسوی | چین | |
| کینڈل کلاک | 870 عیسوی | انگلینڈ | |
| عدسے | 900 عیسوی | یورپ | سورج کی روشنی سے آگ جلانے والے یہ عدسے آنے والی صدیوں میں بے پناہ اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔ |
| چمچ کانٹے | 900 عیسوی | بازنطین | |
| لکڑی کی مدانی | 900عیسوی | یورپ | |
| چرخیاں | 900 عیسوی | تھائی لینڈ | |
| پلاسٹر | 900 عیسوی | عرب | نہ صرف برتن سازی میں استعمال ہوا بلکہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے میں بھی کارآمد ثابت ہوا۔ |
| مطب میں داخلے کے امتحان | 931 عیسوی | فارس | |
| گالف | 935 عیسوی | چین | |
| فاؤنٹین پن | 953 عیسوی | مصر | یہ وہی فاؤنٹین پن ہے جسے یو ایس اے کے لیوس واٹر مین نے 1884 مین دوبارہ متعارف کروایا تھا۔ |
| پہیے والی گھڑی | 960 عیسوی | فرانس | |
| ہسپتال | 970 عیسوی | عرب | نرسوں ، داکٹروں اور دوا سازوں کی سہولتوں سے آراستہ یہ ہسپتال آج کے ہسپتالوں کی بنیاد ثابت ہوا۔ |
| پارے سے چلنے والی گھڑی | 960 عیسوی | چین | |
| ایمبولینس | 1000 عیسوی | مشرق وسطی | فلسطین میں گھوڑوں سے چلنے والی یہ گاڑی جسے صلیبی جنگوں مین استعمال کیا گیا آنے والے سالوں میں فرانس کے "چان لیری" سے دوبارہ دریافت ہوئی ۔ |
| سورج گھڑی | 1000 عیسوی | سپین | |
| سونے کی تار | 1000 عیسوی | سیپریس | |
| ٹوتھ پیسٹ | 1000 عیسوی | چین | |
| گرینٹ | 1000 عیسوی | بازنطین | شروع شروع مین گرینٹ کو پٹرول اور گیسلین سے بھرا جاتا تھا |
| چیک | 1000 عیسوی | عرب | |
| صابن کی ٹکیاں | 1000 عیسوی | عرب | |
| انگشتانہ | 1000 عیسوی | بازنطین | |
| استری | 1000 عیسوی | یورپ | |
| پیزہ (pizza) | عیسوی1000 | بازنطین | |
تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ ششم
| ایجادات | کب ہوئیں | کہاں ہوئیں | کیا اثرات چھوڑے |
| آئینہ | 1020 عیسوی | عرب | چمکدار چاندی اور لوہےسے بنا یا ہوا یہ ابن الہشیم کا یہ آئینہ بعد میں کئی دوسری ایجادات کی بنیاد بنا۔ |
| شکر | 1025 عیسوی | عرب | |
| اسلحہ | 1050 عیسوی | چین | شروع شروع میں بموں کو منجنیقوں اور غلیلوں کی مدد سے پھینکا جاتا تھا ۔ |
| میکان کی گھڑیال | 1092 عیسوی | چین | |
| کاغذ کی کرنسی | 1100 عیسوی | چین | |
| سیسے کی جھال چڑھے برتن | 1100 عیسوی | یورپ | |
| سات رنگوں والی چھپائی | 1100 عیسوی | عرب | |
| ٹینک | 1125 عیسوی | چین | |
| دھوئیں کے گرینٹ | 1128 عیسوی | عرب | |
| آنسو گیس والے گرینٹ | 1161 عیسوی | چین | |
| چھپائی والے لکڑی کے تحتے | 1174 عیسوی | سویزرلینڈ | |
| راکٹ | 1180 عیسوی | چین | |
| پیرا شوٹ | 1180 عیسوی | چین | یہ وہی پیراشوٹ ہے جس کو فرانس کے آندرے گارنارن نے 1797 میں دوبارہ متعارف کروایا تھا۔ |
| کاج | 1235 عیسوی | جرمنی | |
| پر والا قلم | 1250 عیسوی | یورپ | |
| چونگی والی سڑکیں | 1260 عیسوی | انگلینڈ | |
| عینک | 1275 عیسوی | اٹلی | |
| زمینی خندقیں | 1277 عیسوی | چین | |
| چرخا | 1280 عیسوی | بھارت | |
| بندوق یا توپ | 1304 عیسوی | عرب ، یورپ | |
| مصنوعی نسل کشی | 1320 عیسوی | عرب | |
| دھات کی ٹائپ رائٹر | 1396 عیسوی | کوریا | |
| پسٹل | 1400 عیسوی | یورپ | |
| تاش کے پتے | 1400 عیسوی | مصر | |
| حیاتیاتی جنگ ریزی | 1400 عیسوی | وسطی ایشیاء | تاتاریوں نے دشمن کو مغلوب کرنے کے لیے طاعون کے مریضوں کو منجنیقوں میں بھر بھر کر شہر کی دیواروں کے اندر پھینکا ۔ |
| شیشے کی بوتلیں | 1400 عیسوی | یورپ | |
| سکریو جیک | 1400 عیسوی | یورپ | |
| کندہ کاری | 1440 عیسوی | جرمنی | |
| چھپائی کی سیاہی | 1450 عیسوی | یورپ | |
| ٹوتھ برش | 1498 عیسوی | چین | |
| گھڑی | 1500 عیسوی | جرمنی | |
| جمع اور منفی کی علامتیں | 1514 عیسوی | یورپ | |
| آگ سے چلنے والا انجن | 1518 عیسوی | جرمنی | |
| مساوی کی علامت | 1557 عیسوی | یورپ | |
| کچی پنسل | 1564 عیسوی | انگلینڈ | |
| بنائی کرنے والے مشین | 1589 عیسوی | انگلینڈ | |
| مائیکرو سکوپ | 1590 عیسوی | ڈنمارک | |
| تھرما میٹر | 1592 عیسوی | اٹلی | |
| فلش سسٹم ٹائلٹ | 1597 عیسوی | انگلینڈ | |
تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ ہفتم
| ایجادات | کب ہوئیں | کہاں ہوئیں | کیا اثرات چھوڑے |
| ریلوے | 1604 عیسوی | انگلینڈ | |
| ٹیلی سکوپ | 1608 عیسوی | نیدرلینڈ | |
| اخبار | 1609 عیسوی | جرمنی | |
| آب دوز | 1620 عیسوی | انگلینڈ | |
| ضرب کی علامت | 1631 عیسوی | یورپ | |
| کوئلےسے دھکنے والا تندو | 1635 عیسوی | انگلینڈ | |
| مائیکرو میٹر | 1639 عیسوی | انگلینڈ | |
| بیرو میٹر | 1643 عیسوی | اٹلی | |
| ہوائی پمپ | 1650 عیسوی | جرمنی | |
| پینڈلم کلاک | 1657 عیسوی | نیدر لینڈ | |
| سرنج | 1659 عیسوی | انگلینڈ | |
| چیک بک | 1660 عیسوی | انگلینڈ | |
| بس سروس | 1662 عیسوی | فرانس | |
| کلکولس | 1665 عیسوی | انگلینڈ ، جرمنی | |
| شمپئن | 1670 عیسوی | فرانس | |
| گھڑی کی چھوٹی سوئیاں | 1670 عیسوی | انگلینڈ | |
| پریشر کوکر | 1678 عیسوی | فرانس | |
| فاسفورس والی ماچسیں | 1680 عیسوی | انگلینڈ | |
تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ ہشتم
| ایجادات | کب ہوئیں | کہاں ہوئیں | کیا اثرات چھوڑے |
| گرم ہوا والے غبارے | 1709 عیسوی | پرتگال | |
| رائفل | 1710 عیسوی | شمالی امریکہ | |
| بھاپ والا انجن | 1712 عیسوی | انگلینڈ | |
| ٹمپریچر سکیل | 1714 عیسوی | نیدر لینڈ | |
| کپڑا بننے والی مشین | 1733 عیسوی | انگلینڈ | |
| جیگسا پزل | 1750 عیسوی | انگلینڈ | |
| لاٹننگ کنڈیکٹر | 1752 عیسوی | شمالی امریکہ | |
| سینڈوچ | 1769 عیسوی | انگلینڈ | |
| ربڑ (کچی پنسل مٹانے والا) | 1770 عیسوی | یو ایس اے | |
| سٹین بوڈ | 1783 عیسوی | فرانس | |
| میٹرک سسٹم | 1795 عیسوی | فرانس | |
| ویکسینیشن | 1796 عیسوی | سکاٹ لینڈ | |
| لیتھوگرافی | 1798 عیسوی | جرمنی | |
| گیس کوماءع بنانا | 1798 عیسوی | فرانس | |
تہذیب و تمدن سائنسی ایجادات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصہ نہم
| ایجادات | کب ہوئیں | کہاں ہوئیں | کیا اثرات چھوڑے |
| الیکٹریک بیٹری | 1800 عیسوی | اٹلی | |
| گیس کی روشنی کا گھریلو استعمال | 1800 عیسوی | انگلینڈ | |
| سٹیم لوکو موٹیو | 1804 عیسوی | انگلینڈ | |
| آرک لیمپ | 1807 عیسوی | انگلینڈ | |
| ٹین کے ڈبوں میں بند کھانے | 1810 عیسوی | فرانس ، انگلینڈ | |
| سپیکٹرو کوپ | 1814 عیسوی | جرمنی | |
| کاکنوں کی لیمپ | 1815 عیسوی | انگلینڈ | |
| فوٹو گرافی | 1816 عیسوی | انگلینڈ ، فرانس | |
| سٹیتھو سکوپ | 1819 عیسوی | فرانس | |
| واٹر پروف کپڑے | 1823 عیسوی | سکاٹ لینڈ | |
| برقی میقنا طیس | 1823 عیسوی | انگلینڈ | |
| مسافروں والی ریلوے | 1825 عیسوی | انگلینڈ | |
| مائیکرو فون | 1827 عیسوی | انگلینڈ | |
| سلائی مشین | 1830 عیسوی | فرانس | |
| گھاس کاٹنے والی مشین | 1830 عیسوی | انگلینڈ | |
| برقی ٹیلی گرافی | 1833 عیسوی | جرمنی | |
| ریفریجیشن | 1834 عیسوی | انگلینڈ | |
| پروپیلر | 1835 عیسوی | انگلینڈ | |
| میکینکل کلکلیٹر | 1835 عیسوی | انگلینڈ | |
| ریوالور | 1835 عیسوی | یو ایس اے | |
| ڈاک کا ٹکٹ | 1840 اعیسوی | انگلینڈ | |
| فیکس مشین | 1843 عیسوی | سکاٹ لینڈ | |
| جراثیم کش ادویات | 1847 عیسوی | ہنگری | |