Friday, August 29, 2008

پھیلی ہوءی ہیں

خوہشیں پھیلی ہوءی ہیں
کوششیں پھیلی ہوءی ہیں

چاروں جانب راستوں میں
منزلیں پھیلی ہوءی ہیں

جھٹپٹوں کی بستیوں میں
عورتیں پھیلی ہوءی ہیں

بےشمار آسانیوں میں
محنتیں پھیلی ہوءی ہیں

دور تک اس آسماں میں
مشکلیں پھیلی ہوءی ہیں

خشک شہلاتی ہوا میں
دھڑکنیں پھیلی ہوءی ہیں

سمٹے سے آفاق میں کیا
گردشیں پھیلی ہوءی ہیں

0 comments: